Blog
اپنا کھیت اپنا روزگار: غریب کسانوں کی خوشحالی یا بڑے زمینداروں کا نیا کھیل؟

Blog

پنجاب کے دیہاتوں میں رہنے والے غریب کسانوں کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی زمین نہیں ہوتی۔ زمین نہ ہونے کی وجہ سے بینک بھی انہیں کوئی loan نہیں دیتے، کیونکہ ضمانت کے طور پر رکھنے کے لیے ان کے پاس کوئی collateral نہیں ہوتا۔ اسی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مقامی آڑھی کسانوں کا استحصال (exploitation) کرتے ہیں۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت نے ایک نئی اسکیم شروع کی ہے جس کا نام ہے "Apna Khet Apna Rozgar" (AKAR)۔ اس اسکیم کے تحت 30 ہزار بے زمین خاندانوں کو سرکاری زمین دی جا رہی ہے، اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس بار کسی سفارش یا پرچی کے بجائے سارا کام کمپیوٹر اور ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ہو رہا ہے۔
اس اسکیم کی مکمل تفصیلات، گہرا پالیسی ڈیٹا اور میکرو اکنامک تجزیہ دیکھنے کے لیے آپ Milkiyat.com کا اصل پالیسی آرٹیکل وزٹ کر سکتے ہیں۔
زمین کی تقسیم میں سب سے بڑا مسئلہ ہیرا پھیری اور غیر قانونی قبضوں کا ہوتا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے 150 ملین ڈالر کا "PULSE" پروجیکٹ استعمال کیا ہے۔ اب پرانے پٹواری نظام کے بجائے سب کچھ آن لائن شفٹ ہو چکا ہے:
اس ڈیجیٹل نیٹ ورک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسان کو زمین ملنے سے پہلے ہی حکومت یہ کنفرم کر لیتی ہے کہ اس پلاٹ پر کوئی ناجائز قبضہ یا عدالتی کیس تو نہیں ہے۔
یہ اسکیم صرف کاغذات دینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ کسانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے پورا پیکیج دے رہی ہے:
یہ پورا پروسیس بہت تیزی سے مکمل کیا گیا۔ مئی 2026 میں درخواستیں جمع ہوئیں، 6 جولائی کو کمپیوٹر کے ذریعے شفاف قرعہ اندازی ہوئی اور 31 جولائی تک کسانوں کو زمین کا قبضہ مل جائے گا۔
اسکیم دیکھنے میں بہت شاندار ہے، لیکن کچھ ایسے زمینی حقائق ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
حکومت چولستان کے ریگستان میں 83 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین دے رہی ہے۔ وہاں کا زیرِ زمین پانی کڑوا ہے، اس لیے 'Cholistan Canal' بنا کر دریائے ستلج سے پانی لایا جائے گا۔ اس پر سندھ کے کسانوں کو شدید اعتراض ہے۔ ملک کے بڑے ڈیم (Tarbela اور Mangla) پہلے ہی خالی ہو رہے ہیں اور پانی کی 35% کمی کا سامنا ہے۔ سندھ کا کہنا ہے کہ اگر اوپر سے پانی روکا گیا تو نیچے Sukkur Barrage خشک ہو جائے گا اور سمندر کا نمکین پانی Indus Delta کی 70% زمین تباہ کر دے گا۔
پنجاب کے اچھے علاقوں میں زمین کا سالانہ کرایہ ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔ جب حکومت یہ زمین صرف 100 روپے میں دے گی، تو بڑے وڈیرے غریب کسانوں کو "front applicants" بنا کر قرعہ اندازی میں کھڑا کر سکتے ہیں اور نام نکلنے پر سارا فائدہ خود کھا جائیں گے۔
چونکہ یہ زمین 20 سال کے لیے lease پر دی گئی ہے اور کسان اس کا مستقل مالک نہیں ہے، اس لیے تجارتی بینک اس lease کو ضمانت (collateral) کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ اگر کسان کو بڑا solar tube-well لگوانا ہو، تو حکومت کی دی گئی رقم کم پڑ جاتی ہے اور کسان دوبارہ مقامی سود خوروں کے چکر میں پھنس سکتا ہے۔
اس اسکیم کو 100% کامیاب بنانے کے لیے حکومت کو یہ چار تبدیلیاں کرنی چاہئیں:
جواب: یہ پنجاب حکومت کا ایک پروجیکٹ ہے جس میں 30,000 بے زمین دیہاتی خاندانوں کو 20 سال کے لیے سرکاری زمین سستی lease پر دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی روزی خود کما سکیں۔
جواب: انہیں 3 se 5 acres قابلِ کاشت زمین ملتی ہے، سالانہ کرایہ صرف 100 روپے فی ایکڑ ہوتا ہے، اور زمین تیار کرنے کے لیے 50,000 روپے فی ایکڑ cash grant دی جاتی ہے۔
جواب: جی ہاں، عام علاقوں میں 20 فیصد quota خواتین کے لیے مخصوص ہے جبکہ چولستان کے صحرائی علاقوں میں خواتین کا کوٹہ بڑھا کر 29 فیصد کیا گیا ہے۔
جواب: پورا سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہے۔ PULSE پروجیکٹ کے تحت زمین کا آن لائن ریکارڈ چیک کیا گیا، آن لائن فارم جمع ہوئے اور کمپیوٹر کے ذریعے لائیو اور شفاف قرعہ اندازی کی گئی۔
جواب: چولستان کے ریگستان میں پانی پہنچانے کے لیے پنجاب حکومت دریائے ستلج سے 'Cholistan Canal' نکالنا چاہتی ہے۔ سندھ کو اعتراض ہے کہ ملک میں پہلے ہی 35 فیصد پانی کی کمی ہے، اور اگر اوپر سے پانی روکا گیا تو Sukkur Barrage متاثر ہوگا اور Indus Delta میں سمندر کا نمکین پانی ان کی زمینیں تباہ کر دے گا۔
جواب: جب کوئی امیر یا بااثر زمیندار کسی غریب کسان کا نام استعمال کر کے فارم جمع کرواتا ہے اور نام نکلنے پر زمین پر خود قبضہ کر لیتا ہے، تو اسے surrogate farming کہتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ اسکیم کا فائدہ غریب کے بجائے امیر کو پہنچتا ہے۔
With the RDA declaring 293 schemes illegal and the CDA sealing 99 more, the era of selling undeveloped land is over. From July 1, 2026, the Green Property Certificate has become the only valid proof of ownership. If you are holding a file for a plot that doesn’t physically exist, you need to read this breakdown of the new regulatory landscape.
A simple guide to Pakistan's new economic changes: how a $42B remittance surge and AI tax systems are lowering property taxes and making investments safer.
Pakistan leverages a historic $42B remittance surge and AI-driven tax reforms to automate enforcement, bypass corrupt networks, and stabilize its economy.
A comprehensive policy analysis of Punjab's Apna Khet Apna Rozgar (AKAR) scheme, evaluating its land digitization, economic impacts, and structural challenges.