Blog
اپنا کھیت اپنا روزگار: غریب کسانوں کی خوشحالی یا بڑے زمینداروں کا نیا کھیل؟

اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم: کیا پنجاب کے غریب کسانوں کی تقدیر بدل جائے گی؟
- Key Takeaways:
- شفاف ڈیجیٹل نظام: پرانے پٹوار سسٹم کو ختم کر کے 30,000 غریب خاندانوں کو 20 سالہ lease پر زمین دی جا رہی ہے۔
- ٹیکنالوجی کا استعمال: ورلڈ بینک کے $150M کے PULSE پروجیکٹ کے ذریعے زمین کے تمام ریکارڈز کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔
- پانی کا بڑا مسئلہ: چولستان جیسے خشک علاقوں میں زمینوں کو آباد کرنے کے لیے ستلج ندی سے پانی نکالنا سندھ کے ساتھ ایک نئے تنازع کو جنم دے رہا ہے۔
- بڑے زمینداروں کا خطرہ: بااثر لوگ غریب کسانوں کو فرنٹ مین بنا کر اس اسکیم کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جسے روکنے کے لیے مانیٹرنگ بہت ضروری ہے۔
پنجاب کے دیہاتوں میں رہنے والے غریب کسانوں کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی زمین نہیں ہوتی۔ زمین نہ ہونے کی وجہ سے بینک بھی انہیں کوئی loan نہیں دیتے، کیونکہ ضمانت کے طور پر رکھنے کے لیے ان کے پاس کوئی collateral نہیں ہوتا۔ اسی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مقامی آڑھی کسانوں کا استحصال (exploitation) کرتے ہیں۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت نے ایک نئی اسکیم شروع کی ہے جس کا نام ہے "Apna Khet Apna Rozgar" (AKAR)۔ اس اسکیم کے تحت 30 ہزار بے زمین خاندانوں کو سرکاری زمین دی جا رہی ہے، اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس بار کسی سفارش یا پرچی کے بجائے سارا کام کمپیوٹر اور ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ہو رہا ہے۔
اس اسکیم کی مکمل تفصیلات، گہرا پالیسی ڈیٹا اور میکرو اکنامک تجزیہ دیکھنے کے لیے آپ Milkiyat.com کا اصل پالیسی آرٹیکل وزٹ کر سکتے ہیں۔
پٹوار سسٹم سے نجات اور نیا ڈیجیٹل دور
زمین کی تقسیم میں سب سے بڑا مسئلہ ہیرا پھیری اور غیر قانونی قبضوں کا ہوتا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے 150 ملین ڈالر کا "PULSE" پروجیکٹ استعمال کیا ہے۔ اب پرانے پٹواری نظام کے بجائے سب کچھ آن لائن شفٹ ہو چکا ہے:
- ریکارڈ کی حفاظت: حکومت نے تقریباً 15 کروڑ پرانے کاغذی ریکارڈز اور 60 ہزار سے زیادہ گاؤں کے روایتی نقشوں (mussavies) کو کمپیوٹر میں محفوظ کر لیا ہے۔
- Drone سے نگرانی: Drones اور ہائی ریزولوشن satellite کی مدد سے حافظ آباد، لودھراں اور ساہیwal جیسے علاقوں میں 2.5 ملین سے زیادہ زمین کے ٹکڑوں کی mapping کی گئی ہے۔
اس ڈیجیٹل نیٹ ورک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسان کو زمین ملنے سے پہلے ہی حکومت یہ کنفرم کر لیتی ہے کہ اس پلاٹ پر کوئی ناجائز قبضہ یا عدالتی کیس تو نہیں ہے۔
کسانوں کو کیا ملے گا؟ (اعداد و شمار)
یہ اسکیم صرف کاغذات دینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ کسانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے پورا پیکیج دے رہی ہے:
- Land Size: ہر کامیاب خاندان کو 3 سے 5 acres تک قابلِ کاشت زمین دی جا رہی ہے۔
- سالانہ کرایہ: کسانوں پر بوجھ نہ پڑے، اس لیے کرایہ صرف 100 روپے فی ایکڑ سالانہ ہے، جو 20 سالہ lease پر مبنی ہے۔
- کاشتکاری کے لیے نقد رقم: بنجر زمین کو ٹھیک کرنا مہنگا کام ہے، اس لیے حکومت فی ایکڑ 50,000 روپے نقد دے رہی ہے۔ یعنی 5 ایکڑ والے کسان کو 250,000 روپے کی direct grant ملے گی تاکہ وہ بیج، کھاد اور tractor rent کا انتظام کر سکے۔
- خواتین کا حصہ: خواتین کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے اس اسکیم میں ان کا 20% quota رکھا گیا ہے، جو چولستان کے علاقے میں 29% تک بڑھ جاتا ہے۔
یہ پورا پروسیس بہت تیزی سے مکمل کیا گیا۔ مئی 2026 میں درخواستیں جمع ہوئیں، 6 جولائی کو کمپیوٹر کے ذریعے شفاف قرعہ اندازی ہوئی اور 31 جولائی تک کسانوں کو زمین کا قبضہ مل جائے گا۔
بڑے چیلنجز: پانی کی کمی اور وڈیروں کا خطرہ
اسکیم دیکھنے میں بہت شاندار ہے، لیکن کچھ ایسے زمینی حقائق ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
1. سندھ کے ساتھ پانی کا تنازع (Water Conflict)
حکومت چولستان کے ریگستان میں 83 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین دے رہی ہے۔ وہاں کا زیرِ زمین پانی کڑوا ہے، اس لیے 'Cholistan Canal' بنا کر دریائے ستلج سے پانی لایا جائے گا۔ اس پر سندھ کے کسانوں کو شدید اعتراض ہے۔ ملک کے بڑے ڈیم (Tarbela اور Mangla) پہلے ہی خالی ہو رہے ہیں اور پانی کی 35% کمی کا سامنا ہے۔ سندھ کا کہنا ہے کہ اگر اوپر سے پانی روکا گیا تو نیچے Sukkur Barrage خشک ہو جائے گا اور سمندر کا نمکین پانی Indus Delta کی 70% زمین تباہ کر دے گا۔
2. بڑے زمینداروں کا قبضہ (Surrogate Farming)
پنجاب کے اچھے علاقوں میں زمین کا سالانہ کرایہ ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔ جب حکومت یہ زمین صرف 100 روپے میں دے گی، تو بڑے وڈیرے غریب کسانوں کو "front applicants" بنا کر قرعہ اندازی میں کھڑا کر سکتے ہیں اور نام نکلنے پر سارا فائدہ خود کھا جائیں گے۔
3. بینک لون کا مسئلہ (The Credit Trap)
چونکہ یہ زمین 20 سال کے لیے lease پر دی گئی ہے اور کسان اس کا مستقل مالک نہیں ہے، اس لیے تجارتی بینک اس lease کو ضمانت (collateral) کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ اگر کسان کو بڑا solar tube-well لگوانا ہو، تو حکومت کی دی گئی رقم کم پڑ جاتی ہے اور کسان دوبارہ مقامی سود خوروں کے چکر میں پھنس سکتا ہے۔
کامیابی کا راستہ: حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
اس اسکیم کو 100% کامیاب بنانے کے لیے حکومت کو یہ چار تبدیلیاں کرنی چاہئیں:
- پہلے سہولیات، پھر زمین: کسانوں کو خالی بنجر پلاٹ دینے کے بجائے حکومت کو وہاں پہلے سے solar tube-wells اور پانی کی کھالیں بنا کر دینی چاہئیں تاکہ کسان کا نقصان نہ ہو۔
- آسان بینک لون: حکومت 'Bank of Punjab' کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی بنائے جو اس lease agreement کو ضمانت مان کر کسانوں کو سستا loan دے۔
- Satellite سے نگرانی: اتھارٹی (AMAP) کو ہر چھ ماہ بعد satellite کے ذریعے زمین check کرنی چاہیے تاکہ پتا چلے کہ واقعی غریب کسان ہی کاشتکاری کر رہا ہے، کوئی وڈیرا نہیں۔
- مستقل مالکیت کا خواب: اگر کوئی خاندان 10 سال تک محنت سے زمین آباد رکھتا ہے، تو اسے سستی قیمت پر زمین کا مستقل مالک (Permanent Owner) بنا دیا جائے۔ یہ غریب خاندانوں کو مستقل طور پر خوشحال بنانے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
س1: 'Apna Khet Apna Rozgar' اسکیم کیا ہے?
جواب: یہ پنجاب حکومت کا ایک پروجیکٹ ہے جس میں 30,000 بے زمین دیہاتی خاندانوں کو 20 سال کے لیے سرکاری زمین سستی lease پر دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی روزی خود کما سکیں۔
س2: کامیاب ہونے والے خاندان کو کیا کچھ ملتا ہے؟
جواب: انہیں 3 se 5 acres قابلِ کاشت زمین ملتی ہے، سالانہ کرایہ صرف 100 روپے فی ایکڑ ہوتا ہے، اور زمین تیار کرنے کے لیے 50,000 روپے فی ایکڑ cash grant دی جاتی ہے۔
س3: کیا اس اسکیم میں خواتین کے لیے کوئی کوٹہ ہے؟
جواب: جی ہاں، عام علاقوں میں 20 فیصد quota خواتین کے لیے مخصوص ہے جبکہ چولستان کے صحرائی علاقوں میں خواتین کا کوٹہ بڑھا کر 29 فیصد کیا گیا ہے۔
س4: اس اسکیم میں سفارش اور کرپشن کو کیسے روکا گیا ہے؟
جواب: پورا سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہے۔ PULSE پروجیکٹ کے تحت زمین کا آن لائن ریکارڈ چیک کیا گیا، آن لائن فارم جمع ہوئے اور کمپیوٹر کے ذریعے لائیو اور شفاف قرعہ اندازی کی گئی۔
س5: پانی کا مسئلہ کیا ہے اور سندھ کو اس پر کیوں اعتراض ہے؟
جواب: چولستان کے ریگستان میں پانی پہنچانے کے لیے پنجاب حکومت دریائے ستلج سے 'Cholistan Canal' نکالنا چاہتی ہے۔ سندھ کو اعتراض ہے کہ ملک میں پہلے ہی 35 فیصد پانی کی کمی ہے، اور اگر اوپر سے پانی روکا گیا تو Sukkur Barrage متاثر ہوگا اور Indus Delta میں سمندر کا نمکین پانی ان کی زمینیں تباہ کر دے گا۔
س6: 'Surrogate Farming' کا کیا مطلب ہے؟
جواب: جب کوئی امیر یا بااثر زمیندار کسی غریب کسان کا نام استعمال کر کے فارم جمع کرواتا ہے اور نام نکلنے پر زمین پر خود قبضہ کر لیتا ہے، تو اسے surrogate farming کہتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ اسکیم کا فائدہ غریب کے بجائے امیر کو پہنچتا ہے۔